15 جون 2009 - 19:30

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں طالبان شرپسندوں سے وابستہ تین خود کش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیاجب پولیس ان کا تعاقب کر رہی تھی۔

پولیس کے مطابق حملہ آور دریائےجہلم کے کنارے تھری کے مقام پر ایک باڑے میں بارود اور اسلحہ رکھ رہے تھے کہ اچانک مقامی لوگوں نے ان کو دیکھ لیا اور ان کےشور مچانے پر یہ حملہ آور وہاں سے فرار ہوگئے مقامی لوگوں کے مطابق یہ لوگ غیر کشمیری معلوم ہوتے تھے۔ تھری سے کچھ ہی فاصلے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے اہم دفاتر واقع ہیں جن میں وزیر اعظم سیکریٹریٹ ، وزراء کے دفاتر ، قانون ساز اسمبلی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عمارتیں ہیں۔ پولیس نے موقع سے تین کلاشنکوفیں، ایک کلاکوف، ایک پستول، بارہ دستی بم، سینکڑوں گولیاں اور دو کمانڈو جیکٹس برآمد کیں۔اطلاعات کے مطابق مظفرآباد سے دور سراڑ کے مقام پر تینوں دہشت گردوں کو مقامی لوگوں نے فائرنگ کر کے روک لیا اس دوران ڈی ایس پی یاسین بیگ اور ایس ایچ او راجہ فیصل کی سر کردگی میں تعاقب کر نے والی دو مختلف پولیس ٹیموں کے ساتھ پہنچ گئے اور دہشت گردوں نے گرفتاری سے بچنے کے لئے گھروں کے قریب کھلے کھیت میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔ پولیس کے مطابق ان دہشت گردوں کا تعلق طالبان دہشت گردوں سے ہے جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جون میں مظفرآباد شہر کے علاقے شوکت لائن میں فوجیوں کی رہائشی عمارت کے احاطے میں ایک خود کش حملہ آور نے فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ اس حملے میں دو فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کے نائب حکیم اللہ محسود نے مظفرآباد میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔